صحیح مسلم حدیث ۷۰۳۸ - ثنیۃ المرار اور مغفرت
ثنیۃ المرار کی حدیث: مغفرت اور نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا کی قدر
صحیح مسلم : ۷۰۳۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۳۸
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَصْعَدُ الثَّنِيَّةَ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ ، فَإِنَّهُ يُحَطُّ عَنْهُ مَا حُطَّ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ " ، قَالَ : فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صَعِدَهَا خَيْلُنَا خَيْلُ بَنِي الْخَزْرَجِ ثُمَّ تَتَامَّ النَّاسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَكُلُّكُمْ مَغْفُورٌ لَهُ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ " ، فَأَتَيْنَاهُ ، فَقُلْنَا لَهُ : تَعَالَ يَسْتَغْفِرْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَأَنْ أَجِدَ ضَالَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي صَاحِبُكُمْ ، قَالَ : وَكَانَ رَجُلٌ يَنْشُدُ ضَالَّةً لَهُ " ،
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون شخص مرار کی گھاٹی پر چڑھ جاتا ہے اس کے گناہ ایسے معاف ہو جائیں گے جیسے بنی اسرائیل کے معاف ہو گئے تھے؟“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو سب سے پہلے اس گھاٹی پر ہمارے گھوڑے چڑھے یعنی خزرج قبیلہ کے لوگوں کے، پھر لوگوں کا تار بندھ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کی بخشش ہو گئی مگر لال اونٹ والے کی نہیں۔“ہم اس شخص کے پاس گئے اور ہم نے کہا: چل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ وہ بولا: اللہ کی قسم! میں اپنی گم شدہ چیز پاؤں تو مجھے زیادہ پسند ہے تمہارے صاحب کی دعا سے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ شخص اپنی گم شدہ چیز ڈھونڈھ رہا تھا (وہ منافق تھا جب تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی بخشش نہیں ہوئی اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا فرمایا تھا وہ شخص ویسا ہی نکلا)۔
صحیح مسلم حدیث ۷۰۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ثنیۃ المرار پر چڑھے گا؟ اس کے گناہ اس طرح معاف ہوں گے جیسے بنی اسرائیل کے معاف ہوئے تھے۔ سب سے پہلے خزرج کے گھوڑے اس گھاٹی پر چڑھے، پھر لوگ بھی چڑھتے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب کی بخشش ہو گئی، مگر سرخ اونٹ والے کی نہیں۔ صحابہ اس کے پاس گئے اور کہا کہ آؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ اس نے کہا کہ اپنی گم شدہ چیز پا لینا مجھے تمہارے صاحب کی دعا سے زیادہ پسند ہے۔ یہ حدیث مغفرت، نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا کی قدر، اور دنیا کی چیز کو دینی خیر پر ترجیح دینے سے بچنے کا سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو دنیاوی چیز سے کم نہیں سمجھنا چاہیے۔
- مغفرت اللہ کی بڑی نعمت ہے، اسے معمولی نہیں جاننا چاہیے۔
- صحابہ خیر کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے تھے۔
- دنیا کی گم شدہ چیز دین کی بھلائی سے بڑھ کر نہیں ہونی چاہیے۔
