صحیح مسلم حدیث ۷۰۳۳ - کیے بغیر تعریف چاہنے کی مذمت
تعریف چاہنے کی حدیث: کام نہ کیا پھر بھی نام چاہیے
صحیح مسلم : ۷۰۳۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۳۳
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ " أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُنَافِقِينَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا إِذَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَزْوِ ، تَخَلَّفُوا عَنْهُ وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَذَرُوا إِلَيْهِ وَحَلَفُوا وَأَحَبُّوا أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا ، فَنَزَلَتْ لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ سورة آل عمران آية 188 " .
ابو سعید خدری روایت:
کچھ منافق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسے تھے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی ہر جاتے تو وہ پیچھے رہ جاتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف گھر بیٹھنے سے خوش ہوتے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عذر کرتے اور قسم کھاتے اور یہ چاہتے کہ لوگ ان کی تعریف کریں ان کا کاموں پر جو انہوں نے نہیں کئے، تب اللہ نے یہ آیت اتاری: «لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوا وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ» ”مت سمجھ ان لوگوں کو جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے سے اور چاہتے ہیں کہ تعریف کیے جائیں ان کاموں پر جو انہوں نے نہیں کیے کہ وہ چھٹکارا پائیں گے عذاب سے ان کو دکھ کی مار ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۷۰۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کچھ منافق ایسے تھے کہ جب آپ جہاد کے لیے نکلتے تو وہ پیچھے رہ جاتے۔ وہ گھر بیٹھنے پر خوش ہوتے، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے تو عذر پیش کرتے، قسمیں کھاتے، اور چاہتے کہ لوگ ان کاموں پر بھی ان کی تعریف کریں جو انہوں نے کیے ہی نہیں۔ اسی پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ جو لوگ اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کاموں پر تعریف پائیں جو انہوں نے نہیں کیے، انہیں عذاب سے محفوظ نہ سمجھو۔ یہ حدیث ریاکاری، جھوٹی تعریف، نفاق اور سچائی کے موضوع پر بہت صاف نصیحت دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کام کیے بغیر تعریف چاہنا درست رویہ نہیں۔
- دین کے کام سے پیچھے رہ کر خوش ہونا منافقانہ عادت ہے۔
- جھوٹے عذر اور قسموں سے حقیقت نہیں بدلتی۔
- انسان کو اپنی اصل حالت کے بارے میں سچا ہونا چاہیے۔
