صحیح مسلم حدیث ۷۰۳۱ - احد سے لوٹنے والوں کا واقعہ
منافقین کے بارے میں دو رائیں: غزوہ احد کی حدیث
صحیح مسلم : ۷۰۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۳۱
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أُحُدٍ ، فَرَجَعَ نَاسٌ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ ، فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ ، قَالَ بَعْضُهُمْ : نَقْتُلُهُمْ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا ، فَنَزَلَتْ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ سورة النساء آية 88 " ،
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے لیے نکلے اور چند آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹ آئے (وہ منافق تھے) رسول اللہ کے اصحاب ان کے مقدمہ میں دو فرقے ہو گئے، بعض کہنے لگے: ہم ان کو قتل کریں گے اور بعضوں نے کہا: قتل نہیں کریں گے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ» ”تمہارا کیا حال ہے منافقوں کے باب میں تم دو فرقے ہو گئے“ آخر تک۔
صحیح مسلم حدیث ۷۰۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے لیے نکلے، پھر کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ تھے واپس لوٹ آئے۔ ان لوگوں کے بارے میں صحابہ کرام کے درمیان دو رائیں ہو گئیں۔ کچھ نے کہا کہ ہم انہیں قتل کریں گے، اور کچھ نے کہا کہ نہیں کریں گے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: تمہیں کیا ہو گیا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہو گئے۔ اس حدیث میں نفاق، احد سے لوٹنے والے، صحابہ کی رائے اور اللہ کے حکم کا مضمون ہے۔ یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ جب کوئی معاملہ الجھ جائے تو آخر فیصلہ اللہ کے حکم سے واضح ہوتا ہے۔ آدمی کو دینی معاملات میں جلد بازی کے بجائے رہنمائی کا انتظار کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل دینی معاملے میں لوگوں کی رائے مختلف ہو سکتی ہے۔
- آخری رہنمائی اللہ کے حکم سے ملتی ہے۔
- نفاق کا معاملہ عام اختلاف سے زیادہ حساس ہے۔
- بڑے فیصلوں میں جلد بازی سے بچنا چاہیے۔
