صحیح مسلم حدیث ۷۰۳۰ - چھپی بات بھی اللہ جانتا ہے
چھپی بات بھی اللہ کے علم میں ہے: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت
صحیح مسلم : ۷۰۳۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۳۰
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . ح وقَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بِنَحْوِهِ .
عبداللہ روایت:
عبداللہ سے اسی طرح مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۷۰۳۰ کا خلاصہ
یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے جس میں بیت اللہ کے پاس تین آدمیوں کی گفتگو کا ذکر آتا ہے۔ انہوں نے یہ بات کی کہ اللہ ہماری بات سنتا ہے یا نہیں، اور اگر بلند آواز سنتا ہے تو کیا آہستہ بات بھی سنتا ہے۔ پھر قرآن کی آیت نازل ہوئی جس میں بتایا گیا کہ انسان یہ گمان نہ کرے کہ اللہ اس کے بہت سے کام نہیں جانتا۔ یہ روایت اللہ کے علم، اللہ سب جانتا ہے، پوشیدہ بات اور اعضاء کی گواہی جیسے مضامین کو مضبوط کرتی ہے۔ عام زندگی میں یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آدمی لوگوں سے چھپ سکتا ہے، لیکن اللہ سے نہیں۔ اس لیے بات، سوچ اور عمل میں احتیاط رکھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ سے کوئی بات چھپی نہیں رہتی۔
- آہستہ بولی گئی بات بھی اللہ کے علم میں ہے۔
- انسان کو اپنے گمان کو درست رکھنا چاہیے۔
- دین کی بات سن کر دل میں یقین مضبوط کرنا چاہیے۔
