صحیح مسلم حدیث ۷۰۲۹ - اللہ ہر بات سنتا ہے
اللہ سب سنتا ہے: ظاہر اور چھپی بات کی حدیث
صحیح مسلم : ۷۰۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۲۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " اجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَيْتِ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ قَلِيلٌ ، فِقْهُ قُلُوبِهِمْ كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ : أَتُرَوْنَ اللَّهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ ؟ ، وَقَالَ الْآخَرُ : يَسْمَعُ إِنْ جَهَرْنَا وَلَا يَسْمَعُ إِنْ أَخْفَيْنَا ، وَقَالَ الْآخَرُ : إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا فَهُوَ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلا أَبْصَارُكُمْ وَلا جُلُودُكُمْ سورة فصلت آية 22 " الْآيَةَ ،
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بیت اللہ کے پاس تین آدمی اکھٹے ہوئے اور ان میں سے دو قریش کے تھے اور ایک ثقیف کا یا دو ثقیف کے تھے اور ایک قریش کا تھا، ان کے دلوں میں سمجھ کم تھی اور ان کے پیٹوں میں بہت چربی تھی (اس سے معلوم ہوا کہ مٹاپے کے ساتھ دانائی کم ہوتی ہے) ایک شخص ان میں سے بولا: کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ سنتا ہے جو ہم کہتے ہیں اور دوسرا یہ بولا: اگر ہم پکاریں تو سنے گا اور چپکے سے بولیں تو نہیں سنے گا اور تیسرا بولا: اگر وہ سنتا ہے جب ہم پکار کر بولتے ہیں تو آہستہ بولیں گے جب بھی سنے گا تب اللہ تعالیٰ یہ آیت اتاری «وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَـٰكِن ظَنَنتُمْ أَنَّ اللَّـهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِّمَّا تَعْمَلُونَ» (فصلت: ٢٢) یعنی”تم اس لیے نہیں چھپاتے تھے کہ تم پر گواہی دیں گے کان اور آنکھ اور کھالیں تمہاری (لیکن تم نے یہ خیال کیا کہ اللہ نہیں جانتا بہت کام جو تم کرتے ہو)۔“
صحیح مسلم حدیث ۷۰۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تین آدمیوں کا واقعہ بیان کرتے ہیں جو بیت اللہ کے پاس اکٹھے ہوئے۔ ان میں سے ایک نے پوچھا کہ کیا اللہ ہماری بات سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا کہ اگر ہم بلند آواز سے بولیں تو سنتا ہے اور آہستہ بولیں تو نہیں سنتا۔ تیسرے نے کہا کہ اگر وہ بلند آواز سنتا ہے تو آہستہ بات بھی سنتا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ تم اس لیے نہیں چھپتے تھے کہ تمہارے کان، آنکھیں اور کھالیں تم پر گواہی دیں گی، بلکہ تم گمان کرتے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا۔ یہ حدیث اللہ کے علم، اللہ سب سنتا ہے، چھپی بات اور گواہی کے موضوع کو آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ بلند آواز اور آہستہ بات دونوں کو جانتا ہے۔
- انسان کے اعضاء قیامت کے دن گواہی دے سکتے ہیں۔
- اللہ کے علم کے بارے میں غلط گمان بہت خطرناک ہے۔
- تنہائی میں بھی زبان اور عمل کی حفاظت ضروری ہے۔
