صحیح مسلم حدیث ۷۰۲۸ - منافقین پر نماز چھوڑ دی گئی
منافقین کی نماز جنازہ: حکم کے بعد عمل
صحیح مسلم : ۷۰۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۲۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَزَادَ قَالَ : فَتَرَكَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ .
عبیداللہ روایت:
عبيدالله اسی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز چھوڑ دی منافقوں پر۔
صحیح مسلم حدیث ۷۰۲۸ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے مضمون کو بیان کرتی ہے اور اس میں ایک اضافہ ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین پر نماز چھوڑ دی۔ اس جملے سے بات صاف ہو جاتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مطابق عمل فرمایا۔ اس روایت میں لمبی تفصیل نہیں، لیکن اس کا پیغام واضح ہے۔ دین میں اصل اہمیت اللہ کے حکم کی ہے۔ پہلے واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی فرمائی، بیٹے کی درخواست قبول کی، اپنا کرتا دیا اور نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ پھر جب آیت نازل ہوئی تو منافقین کے بارے میں نماز جنازہ کا معاملہ واضح ہو گیا۔ یہ حدیث نماز جنازہ، منافقین کا حکم اور وحی کی پیروی سے متعلق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کا حکم آ جانے کے بعد اسی کے مطابق عمل کیا جاتا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل وحی کے تابع تھا۔
- منافقین کے معاملے میں شریعت نے خاص حکم دیا۔
- مختصر حدیث بھی اہم دینی حکم سمجھا سکتی ہے۔
