صحیح مسلم حدیث ۷۰۲۵ - عبداللہ بن ابی کے ساتھ نبی صلى الله عليه وسلم کا معاملہ
نبی صلى الله عليه وسلم کا نرم برتاؤ: عبداللہ بن ابی کی قبر کا واقعہ
صحیح مسلم : ۷۰۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۲۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : " أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ، فَأَخْرَجَهُ مِنْ قَبْرِهِ فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ فَاللَّهُ أَعْلَمُ " ،
جابر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کی قبر پر آئے (جب وہ اکڑ چکا تھا) اس کو قبر سے نکالا اور اپنے گھٹنوں پر بٹھایا اور اپنا تھوک اس پر ڈالا اور اپنا کرتا اس کو پہنایا۔
صحیح مسلم حدیث ۷۰۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کی قبر پر تشریف لائے، اسے قبر سے نکالا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھا، اس پر اپنا لعاب ڈالا اور اپنا کرتا اسے پہنایا۔ متن میں آخر میں یہ بھی آیا: اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس روایت کو سمجھتے ہوئے ہمیں حد سے آگے بات نہیں بڑھانی چاہیے، کیونکہ حدیث میں جتنا عمل ذکر ہوا ہے اسی پر بات رکھنی چاہیے۔ اس میں نبی صلى الله عليه وسلم کی رحمت، نرم دلی اور معاملہ کرنے کا ایک خاص انداز سامنے آتا ہے۔ یہ رحمت کی حدیث اور جنازہ کے واقعے سے جڑی روایت ہے، مگر اس سے کوئی ایسا حکم نہیں نکالنا چاہیے جو خود متن میں صاف بیان نہیں ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا برتاؤ بہت نرم اور رحمت والا تھا۔
- حدیث کے متن سے آگے بڑھ کر دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔
- کسی واقعے کو بیان کرتے وقت احتیاط اور ادب ضروری ہے۔
- اللہ بہتر جانتا ہے، یہ جملہ علم کی حد سمجھنے کا سبق دیتا ہے۔
