صحیح مسلم حدیث ۷۰۲۶ - عبداللہ بن ابی کی قبر کا واقعہ
عبداللہ بن ابی کا واقعہ: روایت کی تائید اور احتیاط
صحیح مسلم : ۷۰۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۲۶
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُفْيَانَ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۷۰۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا ترجمہ پچھلی روایت کی طرح ہے۔ اس میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے پاس اس وقت آئے جب اسے اس کی قبر میں داخل کر دیا گیا تھا، پھر اسی طرح کا واقعہ ذکر ہوا۔ اس حدیث کا اصل فائدہ یہ ہے کہ ایک ہی واقعہ دوسری سند سے بھی بیان ہوا۔ عام قاری کے لیے اس میں بڑا سبق یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو ادب کے ساتھ پڑھا جائے اور متن کے اندر رہ کر بات کی جائے۔ یہاں نبی صلى الله عليه وسلم کی رحمت، عبداللہ بن ابی کی قبر کا واقعہ، اور صحابی کی روایت کا ذکر ہے۔ اس سے زیادہ تفصیل بیان کرنے میں احتیاط چاہیے، کیونکہ روایت خود مختصر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مختصر روایت کو اسی حد میں سمجھنا چاہیے جتنی بات بیان ہوئی ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا ذکر ادب کے ساتھ کرنا چاہیے۔
- ایک واقعہ کئی سندوں سے بیان ہو تو مضمون کی تائید ہوتی ہے۔
- دینی بات میں بے جا اضافہ کرنے سے بچنا چاہیے۔
