صحیح مسلم حدیث ۷۰۲۷ - منافق کی نماز جنازہ کا حکم

نماز جنازہ کی حدیث: عبداللہ بن ابی اور نازل ہونے والا حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۲۷

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ ، جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ قَمِيصَهُ يُكَفِّنُ فِيهِ أَبَاهُ ، فَأَعْطَاهُ ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ ، فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ ، فَقَالَ : اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً وَسَأَزِيدُهُ عَلَى سَبْعِينَ " ، قَالَ : إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84 " ،

عبداللہ بن عمر روایت:

جب عبداللہ بن ابی مر گیا تو اس کا بیٹا عبداللہ بن عبدالله رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا (وہ سچا مسلمان تھا) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا کرتا مانگا اپنے باپ کے کفن کے لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کرتا دے دیا، پھر اس نے کہا: نماز پڑھنے کو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اس پر نماز پڑھنے کو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا پکڑ لیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس پر نماز پڑھتے ہیں اور اللہ نے آپ کو منع کیا اس پر نماز پڑھنے سے (کیونکہ اللہ نے فرمایا: «سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَن يَغْفِرَ اللَّـهُ لَهُمْ» (۶۳-المنافقون: ۶) یعنی ”تو ان کے لیے دعا کرے یا نہ کرے دونوں برابر ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہ بخشے گا“)۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اختیار دیا اور فرمایا اگر تو ان کے لیے ستر بار استغفار کرے تب بھی اللہ ان کو نہیں بخشے گا تو میں ستر بار سے زیادہ استغفار کروں گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! وہ منافق تھا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز پڑھی تب یہ آیت اتری: «وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ» (۹-التوبة: ۸۴) ”مت پڑھ نماز ان میں سے کسی پر (یعنی منافقوں میں سے کسی منافق پر) جب وہ مر جائے کبھی اور نہ کھڑا ہو اس کی قبر پر۔“

صحیح مسلم حدیث ۷۰۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن ابی کے مرنے کے بعد کا واقعہ ہے۔ اس کا بیٹا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اپنے باپ کے کفن کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتا مانگا۔ آپ نے اسے دے دیا۔ پھر اس نے نماز جنازہ کی درخواست کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ منافق تھا اور اللہ نے آپ کو منع کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے اختیار دیا ہے، اگر ستر بار سے زیادہ استغفار کروں تو بھی کروں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی، اس کے بعد آیت نازل ہوئی کہ ان میں سے جو مر جائے اس پر کبھی نماز نہ پڑھیں اور اس کی قبر پر کھڑے نہ ہوں۔ یہ نماز جنازہ، منافقین اور وحی کے حکم سے جڑی حدیث ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرماتے تھے۔
  • اللہ کا آخری حکم آ جانے کے بعد اسی کی پیروی لازم ہے۔
  • صحابہ کرام دین کے معاملے میں سوال اور یاد دہانی کرتے تھے۔
  • منافقین کے بارے میں حکم اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں