صحیح مسلم حدیث ۷۰۳۹ - مرار کی گھاٹی اور دیہاتی کا واقعہ
مرار کی گھاٹی کی دوسری روایت: گم شدہ چیز اور مغفرت کی دعا
صحیح مسلم : ۷۰۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۳۹
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَصْعَدُ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ أَوِ الْمَرَارِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : وَإِذَا هُوَ أَعْرَابِيٌّ جَاءَ يَنْشُدُ ضَالَّةً لَهُ .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو ثنیۃ المرار یا مرار کی گھاٹی پر چڑھے گا۔“ باقی حدیث مبارکہ گزر چکی ہے۔ اس میں یہ ہے کہ وہ دیہاتی آیا جو اپنی گمشدہ چیز کو تلاش کر رہا تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۷۰۳۹ کا خلاصہ
یہ حدیث سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اسی واقعے کی دوسری روایت ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا ذکر ہے کہ جو ثنیۃ المرار یا مرار کی گھاٹی پر چڑھے گا، باقی حدیث پہلے گزر چکی۔ اس روایت میں خاص اضافہ یہ ہے کہ وہ شخص ایک دیہاتی تھا جو اپنی گم شدہ چیز تلاش کر رہا تھا۔ اس سے پچھلے واقعے کا ایک پہلو واضح ہوتا ہے کہ وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت کی دعا کے مقابلے میں اپنی گم شدہ چیز کو ترجیح دے رہا تھا۔ اس حدیث کا مرکزی مضمون مغفرت، نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا، دنیا کی چیز اور دینی خیر کی قدر ہے۔ متن مختصر ہے، اس لیے بات بھی اسی دائرے میں رکھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مغفرت کی دعا بڑی نعمت ہے، اسے معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
- دنیاوی چیز کی تلاش آدمی کو دینی خیر سے غافل نہ کرے۔
- دوسری روایت کبھی واقعے کی اضافی بات سمجھا دیتی ہے۔
- حدیث کے مختصر متن سے زیادہ بات بڑھانے میں احتیاط چاہیے۔
