صحیح مسلم حدیث ۷۰۴۰ - علم کے بعد بھٹکنے کا انجام
علم کے بعد بھٹکنے کی حدیث: بنی نجار کے شخص کا انجام
صحیح مسلم : ۷۰۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۴۰
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ ، وَكَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَ هَارِبًا حَتَّى لَحِقَ بِأَهْلِ الْكِتَابِ ، قَالَ : فَرَفَعُوهُ ، قَالُوا : هَذَا قَدْ كَانَ يَكْتُبُ لِمُحَمَّدٍ ، فَأُعْجِبُوا بِهِ فَمَا لَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللَّهُ عُنُقَهُ فِيهِمْ ، فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا ، ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا ، ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا فَتَرَكُوهُ مَنْبُوذًا " .
انس بن مالک روایت:
ایک شخص ہماری قوم بنی نجار میں سے تھا جس نے سورۂ بقرہ اور آل عمران پڑھی تھی اور وہ لکھا کرتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، پھر بھاگ گیا اور اہل کتاب سے مل گیا۔ انہوں نے اس کو اٹھایا اور کہنے لگے: یہ منشی تھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ لوگ خوش ہوئے اس کے مل جانے سے، پھر تھوڑے دنوں میں اللہ نے اس کو ہلاک کیا۔ انہوں نے اس کے لیے قبر کھودی اور گاڑ دیا۔صبح کو جو دیکھا تو اس کی لاش باہر پڑی ہے، پھر انہوں نے کھودا اور اس کو گاڑ دیا، پھر صبح کو دیکھا تو اس کی لاش باہر پڑی ہے، پھر کھودا پھر گاڑا پھر صبح کو دیکھا تو اس کی لاش کو زمین نے باہر پھینک دیا آخر اس کو یوں ہی پڑا چھوڑ دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۷۰۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنی نجار کا ایک شخص سورہ بقرہ اور آل عمران پڑھ چکا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لکھا بھی کرتا تھا۔ پھر وہ بھاگ گیا اور اہل کتاب سے جا ملا۔ اہل کتاب نے اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب تھا، اور وہ اس پر خوش ہوئے۔ کچھ ہی دنوں میں اللہ نے اسے ہلاک کر دیا۔ انہوں نے اسے دفن کیا، مگر صبح زمین نے اس کی لاش باہر پھینک دی۔ انہوں نے دوبارہ دفن کیا، پھر یہی ہوا۔ تیسری بار بھی ایسا ہوا تو اسے پڑا چھوڑ دیا۔ یہ حدیث ارتداد، علم کے بعد بھٹکنے، قرآن پڑھنے کے باوجود غلط راستے پر جانے اور برے انجام کا سخت سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صرف علم ہونا کافی نہیں، اللہ کے دین پر قائم رہنا بھی ضروری ہے۔
- قرآن پڑھنے کے بعد دین سے بھاگ جانا بہت سنگین معاملہ ہے۔
- لوگوں کی تعریف یا مقام آدمی کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔
- برے انجام کا ذکر انسان کو اپنے ایمان کی فکر دلاتا ہے۔
