صحیح مسلم حدیث ۷۰۵۷ - اہل جنت کی مہمانی
اہل جنت کی مہمانی: زمین روٹی کی طرح ہونے والی حدیث
صحیح مسلم : ۷۰۵۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۵۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَكُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَكْفَؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ ، كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : فَأَتَى رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ ، فَقَال : بَارَكَ الرَّحْمَنُ عَلَيْكَ أَبَا الْقَاسِمِ ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِنُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ بَلَى ، قَالَ : تَكُونُ الْأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً ، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكَ بِإِدَامِهِمْ ؟ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : " إِدَامُهُمْ بَالَامُ وَنُونٌ ، قَالُوا : وَمَا هَذَا ؟ ، قَالَ : ثَوْرٌ وَنُونٌ يَأْكُلُ مِنْ زَائِدَةِ كَبِدِهِمَا سَبْعُونَ أَلْفًا " .
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ اس کو الٹی پلٹی کر دے گا اپنے ہاتھ سے جیسے کوئی تم میں سے سفر میں سے اپنی روٹی کو الٹتا ہے بہشتیوں کی مہمانی کے لیے۔“پھر ایک شخص یہودی آیا اور بولا: برکت دے رحمٰن تم پر ابوالقاسم! کیا میں تم کو بتلاؤں بہشتیوں کا کھانا قیامت کے دن؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بتلا۔“ وہ بولا: زمین تو ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا، پھر ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دانت کھل گئے۔ وہ بولا: میں تم سے کہوں ان کا سالن کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ وہ بولا: ان کا سالن بالام اور نون ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: بالام اور نون کیا ہے؟ وہ بولا: بیل اور مچھلی جن کے کلیجے کے ٹکڑے میں سے ستر ہزار آدمی کھائیں گے۔
صحیح مسلم حدیث ۷۰۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع اہل جنت کی مہمانی اور قیامت کا ایک عجیب منظر ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی، اللہ تعالیٰ اسے اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کرے گا جیسے مسافر اپنی روٹی کو الٹتا ہے، اور یہ اہل جنت کی مہمانی کے لیے ہو گی۔ پھر ایک یہودی شخص آیا اور اس نے بھی اسی مضمون کی بات کی، جس پر نبی صلى الله عليه وسلم نے صحابہ کی طرف دیکھا اور ہنسے۔ روایت میں آگے اہل جنت کے سالن کا ذکر ہے: بالام اور نون، جس کی وضاحت بیل اور مچھلی کے طور پر کی گئی، اور ان کے کلیجے کے ٹکڑے سے ستر ہزار آدمیوں کے کھانے کا ذکر آیا۔ اس حدیث میں جنت کا رزق، قیامت کا دن، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی تصدیق والا واقعہ آتا ہے۔ ہمیں اسی بیان پر رکنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اہل جنت کے لیے اللہ کی طرف سے خاص مہمانی کا ذکر آیا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے زمین کے روٹی جیسی ہونے کا منظر بیان فرمایا۔
- حدیث میں بیل اور مچھلی کے سالن کا ذکر بھی آیا ہے۔
- غیب کی نعمتوں کو دنیا کے پیمانوں سے مکمل طور پر ناپنا درست نہیں۔
