صحیح مسلم حدیث ۷۱۱۷ - دین میں میانہ روی کی ہدایت
دین میں اعتدال اور میانہ روی کا حکم
صحیح مسلم : ۷۱۱۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۱۱۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَارِبُوا وَسَدِّدُوا وَاعْلَمُوا ، أَنَّهُ لَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِعَمَلِهِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا أَنْتَ ؟ ، قَالَ : " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ " ،
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میانہ روی کرو۔ اگر یہ نہ ہو سکے تو میانہ روی کے قریب رہو، یعنی اعتدال کرو۔ اگر اعتدال نہ ہو سکے تو خیر اعتدال کے قریب رہو، افراط، تفریط، غلو اور تعصب نہ کرو۔“
صحیح مسلم حدیث ۷۱۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میانہ روی اختیار کرو، سیدھا راستہ اختیار کرو اور افراط و تفریط سے بچو۔ اگر مکمل میانہ روی ممکن نہ ہو تو کم از کم اس کے قریب رہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین میں سختی یا غفلت دونوں سے بچنا چاہیے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ عبادات اور معاملات میں اعتدال رکھے اور کسی بھی چیز میں حد سے نہ بڑھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین میں اعتدال ضروری ہے
- افراط اور تفریط سے بچنا چاہیے
- عمل میں توازن رکھنا بہتر ہے
