صحیح مسلم حدیث ۷۱۱۸ - میانہ روی اور نجات کا اصول
عمل اور رحمت کے درمیان توازن
صحیح مسلم : ۷۱۱۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۱۱۸
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ،
جابر روایت:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اسی کی مثل مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۷۱۱۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے عمل کی وجہ سے نجات نہیں پا سکتا بلکہ اللہ کی رحمت ضروری ہے۔ ساتھ ہی آپ صلى الله عليه وسلم نے میانہ روی اور درستگی اختیار کرنے کی ہدایت دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو نہ صرف عبادت بلکہ عملی زندگی میں بھی توازن سکھاتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ نہ تو مایوس ہو اور نہ ہی غرور کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نجات اللہ کی رحمت سے ہے
- عمل میں توازن ضروری ہے
- مایوسی اور غرور دونوں غلط ہیں
