صحیح مسلم حدیث ۷۱۳ - عورت کے احتلام والی روایت کی تائید

عورت کے احتلام والی حدیث: اسی معنی کی ایک روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۱۳

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، مِثْلَ مَعْنَاهُ وَزَادَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : " فَضَحْتِ النِّسَاءَ " .

ھشام بن عروہ روایت:

ھشام بن عروہ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی مروی ہے اور اس میں زیادہ ہے کہ میں نے کہا: تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا۔

صحیح مسلم حدیث ۷۱۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ اوپر والی حدیث کے ہم معنی روایت مروی ہے۔ اس میں ایک اضافہ یہ بھی نقل ہوا کہ کہا گیا: تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا۔ اس روایت کا اصل موضوع عورت کا احتلام، پانی دیکھنے پر غسل، اور اس سوال کے وقت ہونے والی گفتگو ہے۔ چونکہ یہ متن پہلے والی روایت کے معنی کو دہراتا ہے، اس لیے اس میں نیا حکم الگ سے نہیں نکالا جاتا۔ عام قاری کے لیے یہاں اہم بات یہ ہے کہ ایک ہی واقعہ کبھی مختلف الفاظ کے ساتھ نقل ہوتا ہے، مگر اصل حکم وہی رہتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک روایت کے معنی دوسری سند سے بھی نقل ہو سکتے ہیں۔
  • الفاظ کے اضافے کو اصل حکم سے الگ سمجھنا چاہیے۔
  • عورت کے احتلام کا مسئلہ پچھلی روایت کے معنی میں برقرار ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں