صحیح مسلم حدیث ۷۱۴ - عائشہؓ کا سوال اور عورت کا احتلام
کیا عورت بھی یہ دیکھتی ہے؟ روایت میں تعجب کا ذکر
صحیح مسلم : ۷۱۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۱۴
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَزَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أُمَّ بَنِي أَبِي طَلْحَةَ ، دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ هِشَامٍ ، غَيْرَ أَنَّ فِيهِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ لَهَا : أُفٍّ لَكِ ، أَتَرَى الْمَرْأَةُ ذَلِكِ ؟ .
عائشہ روایت:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جس نے کہا: افسوس ہے تجھ پر۔ کیا عورت یہ سب کچھ دیکھتی ہے؟
صحیح مسلم حدیث ۷۱۴ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ نقل ہوئے ہیں کہ انہوں نے کہا: افسوس ہے تجھ پر، کیا عورت یہ سب کچھ دیکھتی ہے؟ یہ روایت اسی واقعے کے معنی میں ہے جس میں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عورت کے احتلام کے بارے میں سوال کیا تھا۔ یہاں اصل توجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے تعجب کے الفاظ پر ہے، نہ کہ کسی نئے حکم پر۔ عورت کا احتلام، شرعی سوال، اور اس پر ہونے والی گفتگو اس متن کا دائرہ ہے۔ اس طرح کی روایت پڑھتے وقت ضروری ہے کہ اصل حکم کو پچھلی واضح روایت کے ساتھ سمجھا جائے اور اس متن کو اسی گفتگو کا حصہ سمجھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں بعض اوقات واقعے کے مختلف الفاظ نقل ہوتے ہیں۔
- تعجب کے الفاظ اصل شرعی حکم کو نہیں بدلتے۔
- دینی سوال کے جواب کو مکمل روایتوں کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
