صحیح مسلم حدیث ۷۱۷ - اسی واقعے کی دوسری روایت

قیامت اور بچے کے سوالات: لفظی فرق کے ساتھ روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۱۷

وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : زَائِدَةُ كَبِدِ النُّونِ ، وَقَالَ : أَذْكَرَ ، وَآنَثَ ، وَلَمْ يَقُلْ : أَذْكَرَا ، وَآنَثَا .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے کچھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ۔

صحیح مسلم حدیث ۷۱۷ کا خلاصہ

اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ پچھلی حدیث اسی سند سے کچھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ مروی ہے۔ یہاں چند لفظی فرق ذکر ہوئے، جیسے کھڑے ہونے کے بجائے بیٹھے ہونے کا ذکر، مچھلی کے جگر کے لفظ میں فرق، اور أذکر وآنث کے الفاظ کا فرق۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل واقعہ وہی ہے: یہودی عالم کے سوالات، قیامت کے وقت لوگوں کا مقام، جنت میں داخل ہونے والوں کی ضیافت، اور بچے کے بارے میں سوال۔ یہ روایت کوئی نیا الگ حکم نہیں دیتی، بلکہ اسی واقعے کی نقل میں الفاظ کے فرق کو محفوظ کرتی ہے۔ حدیث پڑھتے وقت ایسے فرق کو امانت کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روایت کے الفاظ میں فرق بھی محدثین نے محفوظ کیا۔
  • اصل واقعہ پچھلی روایت کے معنی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
  • حدیث میں لفظی امانت کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں