صحیح مسلم حدیث ۷۲۳۱ - اللہ پر اچھا گمان رکھنے کی اہمیت
اللہ پر حسنِ ظن رکھنے کی خوبصورت تعلیم
صحیح مسلم : ۷۲۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۲۳۱
وحَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، يَقُولُ : " لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۷۲۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی وفات سے صرف تین دن پہلے فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی اس حال میں نہ مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان نہ رکھتا ہو۔ اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کے دل میں ہمیشہ اللہ کی رحمت، مغفرت اور مہربانی کا یقین ہونا چاہیے۔ حسنِ ظن یعنی اللہ سے اچھا امید رکھنا ایمان کو مضبوط کرتا ہے اور انسان کو مایوسی اور ناامیدی سے بچاتا ہے۔ جب بندہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ اس پر رحم کرے گا تو وہ نیکیوں کی طرف بڑھتا ہے، توبہ کرتا ہے اور اپنے اعمال کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کے آخری لمحات تک اللہ کی رحمت سے امید رکھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ یہی ایمان کی مضبوطی اور نجات کا ذریعہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر مسلمان کو اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ اچھا گمان رکھنا چاہیے
- مایوسی اور ناامیدی سے بچنا ایمان کا حصہ ہے
- زندگی کے آخری لمحے تک اللہ کی رحمت کی امید رکھنی چاہیے
