صحیح مسلم حدیث ۷۳۸ - ایک صاع سے غسل
جنابت کا غسل ایک صاع پانی سے کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۷۳۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۳۸
وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ كلاهما ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَيْحَانَةَ ، عَنْ سَفِينَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُغَسِّلُهُ الصَّاعُ مِنَ الْمَاءِ مِنَ الْجَنَابَةِ ، وَيُوَضِّؤُهُ الْمُدُّ " .
سفینہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت سے غسل کرتے وقت ایک صاع پانی سے غسل کرتے اور وضو کرتے وقت ایک مد پانی کے ساتھ۔
صحیح مسلم حدیث ۷۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جنابت کے غسل کے وقت ایک صاع پانی سے غسل کرتے اور وضو کے وقت ایک مد پانی استعمال کرتے۔ اس روایت میں دو مقداریں سامنے آتی ہیں: غسل کے لیے صاع، وضو کے لیے مد۔ اس کا تعلق غسل جنابت میں پانی کی مقدار سے ہے۔ یہاں نہ غسل کی پوری ترتیب بیان ہوئی ہے نہ سر پر پانی ڈالنے کا طریقہ، اس لیے بات کو مقدار تک محدود رکھنا بہتر ہے۔ قاری کے لیے آسان سبق یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل میں پانی کا استعمال واضح، سادہ اور ضرورت کے مطابق تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنابت کے غسل کے لیے ایک صاع کا ذکر ہے۔
- وضو کے لیے ایک مد پانی بیان ہوا ہے۔
- حدیث کا موضوع پانی کی مقدار ہے، غسل کی پوری ترتیب نہیں۔
