صحیح مسلم حدیث ۷۴ - بے اصل روایت کی پہچان

بے اصل روایت کی پہچان: شعبہ کا تحقیقی انداز

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۴

وحَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : قَالَ لِي شُعْبَةُ : ايتِ جَرِيرَ بْنَ حَازِمٍ ، فَقُلْ لَهُ : لَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَرْوِيَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، فَإِنَّهُ يَكْذِب ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قُلْتُ لِشُعْبَةَ : وَكَيْفَ ذَاكَ ؟ فَقَالَ : حَدَّثَنَا عَنِ الْحَكَمِ بِأَشْيَاءَ لَمْ أَجِدْ لَهَا أَصْلًا ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : بِأَيِّ شَيْءٍ ؟ قَالَ : قُلْتُ لِلْحَكَمِ : أَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ ؟ فَقَالَ : لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَيْهِمْ ، وَدَفَنَهُمْ ، قُلْتُ لِلْحَكَمِ : مَا تَقُولُ فِي أَوْلَادِ الزِّنَا ؟ قَالَ : يُصَلَّى عَلَيْهِمْ ، قُلْتُ : مِنْ حَدِيثِ مَنْ يُرْوَى ؟ قَالَ : يُرْوَى عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَلِيٍّ

ابوداوَد روایت:

مجھ سے شعبہ نے کہا: تو جریر بن حازم کے پاس جا اور کہہ تجھ کو درست نہیں حسن بن عمارہ سے روایت کرنا کیونکہ وہ جھوٹ بولتا ہے۔ ابوداوَد نے کہا: میں نے شعبہ سے پوچھا: کیونکر معلوم ہوا کہ وہ جھوٹ بولتا ہے؟ شعبہ نے کہا: اس وجہ سے کہ حسن بن عمارہ نے حکم سے چند حدیثیں نقل کیں جن کی اصل میں نے کچھ نہ پائى۔ میں نے کہا: وہ کونسی حدیثیں ہیں؟شعبہ نے کہا: میں نے حکم سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے شہیدوں پر نماز پڑھی تھی؟ حکم نے کہا: نہیں۔ پھر حسن بن عمارہ نے حکم سے روایت کیا۔ اس نے مقسم سے، اس نے سيدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی احد کے شہیدوں پر اور دفن کیا ان کو۔ اور میں نے حکم سے کہا: تم زنا کی اولاد کے حق میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: ان پر نماز پڑھی جائے جنازے کی۔ میں نے کہا: کس سے روایت کیا گیا ہے اس باب میں؟ انہوں نے کہا: حسن بصری سے۔ حسن بن عمارہ نے کہا: مجھ سے حکم نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن الجزار سے سنا، انہوں نے سيدنا علی رضی اللہ عنہ سے۔

صحیح مسلم حدیث ۷۴ کا خلاصہ

اس روایت میں شعبہ نے ابوداؤد سے کہا کہ جریر بن حازم کو جا کر بتاؤ کہ حسن بن عمارہ سے روایت کرنا درست نہیں، کیونکہ وہ جھوٹ بولتا ہے۔ جب وجہ پوچھی گئی تو شعبہ نے بتایا کہ حسن بن عمارہ نے حکم سے ایسی باتیں نقل کیں جن کی اصل شعبہ کو نہ ملی۔ پھر مثالیں بھی بیان کیں: احد کے شہیدوں پر نماز کے مسئلے میں حکم سے پوچھا گیا تو انہوں نے ایک جواب دیا، مگر حسن بن عمارہ نے اسی سے دوسری نسبت بیان کی۔ اسی طرح دوسری بات میں بھی نسبت بدل گئی۔ اس روایت کا اہم موضوع بے اصل روایت، راوی کی تحقیق، حدیث کی سند اور جرح و تعدیل ہے۔ یہ متن بتاتا ہے کہ اہل علم الزام نہیں لگاتے تھے، بلکہ مثال سے وجہ بھی بتاتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کسی راوی پر جرح دلیل اور مثال کے ساتھ کی جاتی تھی۔
  • بے اصل روایت کو پہچاننے کے لیے اصل ماخذ سے پوچھا جاتا تھا۔
  • روایت میں نسبت بدل دینا بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔
  • حدیث بیان کرنے والے کی بات کو اہل علم کے علم سے پرکھا جاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں