صحیح مسلم حدیث ۷۹۲ - دست کا گوشت اور وضو
دست کا گوشت کھانے کے بعد وضو نہ کرنے کی روایت
صحیح مسلم : ۷۹۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۹۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفٍ ، يَأْكُلُ مِنْهَا ، ثُمَّ صَلَّى ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
عمرو بن امیہ ضمری روایت:
سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دست کا گوشت چھری سے کاٹ کر کھا رہے تھے۔ پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۷۹۲ کا خلاصہ
سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ دست کا گوشت چھری سے کاٹ کر کھا رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع کھانے کے بعد وضو ہے، خاص طور پر بکری کے دست یا گوشت کے بعد وضو نہ کرنا۔ روایت میں دیکھنے والے صحابی کا مشاہدہ بیان ہوا ہے، اس لیے اس کی زبان بہت عملی ہے۔ اس میں کسی لمبی بحث کے بجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا ہے۔ حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت کھایا، پھر نماز ادا کی، اور نیا وضو نہیں کیا۔ اس سے متعلق تلاش کے الفاظ میں گوشت کھانے کے بعد وضو، دست کا گوشت، وضو نہیں کیا، اور صحیح مسلم وضو حدیث آتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
- حدیث میں گوشت کھانے کے بعد وضو نہ کرنے کا ذکر ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی طریقہ دینی مسائل سمجھاتا ہے۔
- کھانے کے بعد نماز پڑھنے سے پہلے نیا وضو نہ کرنے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
