صحیح مسلم حدیث ۷۹۳ - نماز کی اذان پر وضو نہ کیا
گوشت کھاتے ہوئے نماز کے لیے بلائے گئے، پھر وضو نہ کیا
صحیح مسلم : ۷۹۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۹۳
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ ، فَأَكَلَ مِنْهَا ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَقَامَ ، وَطَرَحَ السِّكِّينَ ، وَصَلَّى ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ،
عمرو بن امیہ ضمری روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ ایک بکری کا دست چھری سے کاٹ کر کھا رہے تھے، اتنے میں نماز کے لئے بلائے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری ڈال دی اور نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۷۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کا مشاہدہ بیان ہوا ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بکری کا دست چھری سے کاٹ کر کھا رہے تھے۔ اسی دوران نماز کے لیے بلایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری رکھ دی، نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا۔ اس روایت کا اصل موضوع گوشت کھانے کے بعد وضو نہ کرنا ہے۔ یہاں ایک خاص موقع بھی بیان ہوا کہ کھانے کے دوران نماز کا وقت آ گیا۔ حدیث میں پانی استعمال کرنے یا نیا وضو کرنے کا ذکر نہیں، بلکہ صاف کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہیں کیا۔ یہ واقعہ بہت عام فہم ہے اور لوگوں کے روزمرہ سوال سے جڑا ہے کہ کھانا کھانے کے بعد نماز کے لیے وضو دوبارہ کرنا ہے یا نہیں۔ متن کے مطابق جواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے لیے بلائے جانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا چھوڑ دیا۔
- حدیث میں گوشت کھانے کے بعد وضو نہ کرنے کا ذکر ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل روزمرہ مسائل میں رہنمائی دیتا ہے۔
- صحابی نے واقعے کی ترتیب صاف انداز میں بیان کی۔
