صحیح مسلم حدیث ۸۳۶ - عشاء کی اقامت اور گفتگو

عشاء کی اقامت کے بعد گفتگو کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۳۶

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " أُقِيمَتِ صَلَاةُ الْعِشَاءِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : لِي حَاجَةٌ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ ، أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ ، ثُمَّ صَلَّوْا " .

انس روایت:

عشاء کی نماز کی تکبیر ہوئی تو ایک شخص بولا کہ مجھے کچھ کہنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کھڑے ہو کر کان میں باتیں کرنے لگے۔ یہاں تک کہ سب لوگ یا بعض لوگ سو گئے، پھر انہوں نے نماز پڑھی۔

صحیح مسلم حدیث ۸۳۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عشاء کی نماز کی تکبیر ہوئی۔ ایک شخص نے کہا کہ مجھے کچھ کہنا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اس کے ساتھ کھڑے ہو کر کان میں باتیں کرنے لگے۔ یہاں تک کہ سب لوگ یا بعض لوگ سو گئے، پھر انہوں نے نماز پڑھی۔ اس روایت کا مرکزی موضوع عشاء کی اقامت اور گفتگو ہے۔ متن میں اس شخص کی حاجت کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے ہمیں اس پر کوئی اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔ روایت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بات پیش کی، نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے سنا، گفتگو ہوئی، لوگ انتظار کرتے رہے، پھر نماز پڑھی گئی۔ یہ واقعہ ہمیں حدیث کے بیان میں احتیاط بھی سکھاتا ہے، کیونکہ راوی نے بھی کہا: سب لوگ یا بعض لوگ۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک شخص کی بات سنی۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم نماز کے لیے انتظار کرتے رہے۔
  • راوی نے جہاں شک تھا وہاں احتیاط سے الفاظ نقل کیے۔
  • حدیث میں حاجت کی تفصیل نہیں، اس لیے اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں