صحیح مسلم حدیث ۸۳۵ - صحابہ کا سونا اور وضو

سونے کے بعد وضو نہ کرنے کی حدیث: صحابہ کا عمل

صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۳۵

وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : " كَان أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُونَ ، ثُمَّ يُصَلُّونَ ، وَلَا يَتَوَضَّئُونَ " ، قَالَ : قُلْتُ : سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ ؟ قَالَ : إِي وَاللَّهِ .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم سوتے تھے پھر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔ شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے پوچھا: تم نے یہ انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا ہاں۔ اللہ کی قسم۔

صحیح مسلم حدیث ۸۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم سوتے تھے، پھر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔ شعبہ نے قتادہ سے پوچھا کہ کیا تم نے یہ انس رضی اللہ عنہ سے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع نیند اور وضو ہے۔ متن میں صحابہ کے ایک خاص عمل کا ذکر ہے۔ اس میں نیند کی کیفیت، مدت یا صورت کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اسی حد تک بات رکھنی چاہیے۔ روایت یہ بتاتی ہے کہ بعض مواقع پر صحابہ سوتے، پھر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے الفاظ میں دقت بہت ضروری ہے، کیونکہ وضو کے مسائل میں حالت اور صورت کا فرق اثر رکھتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ رضی اللہ عنہم کے عمل کو حدیث میں نقل کیا گیا ہے۔
  • روایت میں نیند کی تفصیل نہیں، اس لیے عام حکم بڑھا کر نہیں کہنا چاہیے۔
  • حدیث سننے اور نقل کرنے میں یقین کی اہمیت ہے۔
  • وضو کے مسائل میں الفاظ اور حالت کا خیال ضروری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں