صحیح مسلم حدیث ۸۳۹ - نماز کے وقت کی اطلاع
نماز کے وقت کی اطلاع اور اذان کا طریقہ
صحیح مسلم : ۸۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۳۹
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " ذَكَرُوا أَنْ يُعْلِمُوا وَقْتَ الصَّلَاةِ ، بِشَيْءٍ يَعْرِفُونَهُ ، فَذَكَرُوا أَنْ يُنَوِّرُوا نَارًا ، أَوْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا ، فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ " .
انس بن مالک روایت:
صحابہ رضی اللہ عنہم نے باہمی طور پر تذکرہ کیا کہ لوگوں کو نماز کا وقت بتانے کے لئے کسی چیز کیا تعین ہونا چاہئیے۔ جس پہ بعض لوگوں نے کہا: اس کے لئے آگ روشن کی جائے یا ناقوس بجایا جائے۔ چنانچہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ دو دو مرتبہ اذان کے کلمات ادا کریں اور اقامت کے الفاظ ایک ایک مرتبہ کہا کریں۔
صحیح مسلم حدیث ۸۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں تذکرہ کیا کہ لوگوں کو نماز کا وقت بتانے کے لیے کوئی چیز مقرر ہونی چاہیے۔ بعض نے کہا کہ آگ روشن کی جائے، بعض نے ناقوس بجانے کی بات کی۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ ادا کریں اور اقامت کے الفاظ ایک ایک مرتبہ کہیں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع اذان کے ذریعے نماز کی اطلاع ہے۔ روایت میں مشورے کا پہلو بھی ہے اور آخر میں مقرر طریقہ بھی بیان ہوا۔ عام فہم انداز میں یہ حدیث بتاتی ہے کہ نماز صرف فرد کا عمل نہیں، جماعت کا نظام بھی ہے، اور اذان اس نظام کا واضح اعلان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے وقت کی اطلاع کے لیے باقاعدہ طریقہ مقرر کیا گیا۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں مشورہ کیا۔
- بلال رضی اللہ عنہ کو اذان اور اقامت کا حکم دیا گیا۔
- اذان نماز باجماعت کی تیاری کا اعلان ہے۔
