صحیح مسلم حدیث ۸۴۰ - اذان کے مشورے کی روایت
اذان کے آغاز سے متعلق روایت میں الفاظ کا فرق
صحیح مسلم : ۸۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۴۰
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ ذَكَرُوا ، أَنْ يُعْلِمُوا بِمِثْلِ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : أَنْ يُورُوا نَارًا .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث ایک یا دو الفاظ کے فرق سے آئی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۸۴۰ کا خلاصہ
اس روایت میں مذکورہ بالا حدیث ہی ایک یا دو الفاظ کے فرق سے نقل ہوئی ہے۔ اس میں یہ بات آئی کہ جب لوگ زیادہ ہو گئے تو انہوں نے نماز کے وقت کی اطلاع کے لیے کسی طریقے کا ذکر کیا۔ ثقفی کی حدیث کی طرح بات بیان ہوئی، مگر یہاں آگ روشن کرنے کے لیے لفظ یوروا نارا آیا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع اذان اور نماز کی اطلاع ہے، لیکن یہ روایت خاص طور پر سند اور الفاظ کے معمولی فرق کو دکھاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محدثین الفاظ کے فرق کو بھی محفوظ کرتے تھے۔ عام پڑھنے والے کے لیے اصل سبق یہ ہے کہ نماز کی اطلاع کا مسئلہ صحابہ کے مشورے میں آیا، اور روایات میں معمولی لفظی فرق کو امانت کے ساتھ بیان کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت کے الفاظ کا فرق بھی امانت سے نقل کیا گیا۔
- نماز کی اطلاع کا مسئلہ لوگوں کی تعداد بڑھنے پر زیر بحث آیا۔
- حدیث نقل کرتے وقت ایک یا دو الفاظ کا فرق بھی اہم سمجھا گیا۔
- اذان کا موضوع نماز باجماعت کے نظم سے جڑا ہوا ہے۔
