صحیح مسلم حدیث ۸۵۴ - اذان سن کر شیطان بھاگتا ہے
اذان کی آواز اور شیطان کا بھاگنا
صحیح مسلم : ۸۵۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۵۴
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإسحاق بن إبراهيم ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ، ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ " ، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّوْحَاءِ ؟ فَقَالَ : هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ ، سِتَّةٌ وَثَلَاثُونَ مِيلًا ،
جابر بن عبداللہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ”نماز کیلئے اذان کے الفاظ سن کر شیطان اتنی دور بھاگ جاتا ہے جیسے روحاء۔“ اعمش نے کہا: میں نے ابوسفیان سے پوچھا: روحاء کہاں ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ مدینہ سے چھتیس میل کے فاصلے پر روحاء کی آبادی واقع ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۸۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب شیطان نماز کی اذان سنتا ہے تو اتنی دور چلا جاتا ہے کہ روحاء کے مقام تک پہنچ جائے۔ روایت میں اعمش نے ابو سفیان سے روحاء کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ روحاء مدینہ سے چھتیس میل کے فاصلے پر ہے۔ اس حدیث کا موضوع اذان کی تاثیر اور شیطان کا اذان سے دور بھاگنا ہے۔ اذان اللہ کی بڑائی، توحید، رسالت اور نماز کی دعوت پر مشتمل ہے، اس لیے حدیث میں شیطان کے دور جانے کا ذکر آیا۔ اس روایت میں خاص طور پر نماز کی اذان اور روحاء کے فاصلے کا بیان موجود ہے، اسی حد تک بات سمجھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کی اذان سن کر شیطان دور بھاگتا ہے۔
- روحاء کا مقام مدینہ سے چھتیس میل بتایا گیا ہے۔
- اذان اللہ کی طرف بلانے والی آواز ہے، جس کا اثر حدیث میں بیان ہوا ہے۔
