صحیح مسلم حدیث ۸۵۶ - اذان، اقامت اور شیطان کے وسوسے
اذان اور اقامت کے وقت شیطان کے وسوسے
صحیح مسلم : ۸۵۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۵۶
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ ، إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ، أَحَالَ لَهُ ضُرَاطٌ ، حَتَّى لَا يَسْمَعَ صَوْتَهُ ، فَإِذَا سَكَتَ ، رَجَعَ فَوَسْوَسَ ، فَإِذَا سَمِعَ الإِقَامَةَ ، ذَهَبَ حَتَّى لَا يَسْمَعَ صَوْتَهُ ، فَإِذَا سَكَتَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان کی آواز سنتے ہی شیطان پادتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اذان کے کلمات نہ سن سکے اور اذان ختم ہو جاتی ہے تو شیطان پھر لوٹ آتا ہے اور لوگوں کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور تکبیر اقامت کے وقت پھر چل دیتا ہے تاکہ اقامت کی آواز سنائی نہ دے۔ اور جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو پھر لوٹ کر لوگوں کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۸۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب شیطان اذان کی آواز سنتا ہے تو آواز کے ساتھ بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان کے کلمات نہ سن سکے۔ جب اذان ختم ہوتی ہے تو واپس آتا ہے اور لوگوں کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ پھر اقامت کے وقت دوبارہ چلا جاتا ہے تاکہ اقامت کی آواز نہ سن سکے۔ اقامت ختم ہونے کے بعد پھر واپس آ کر وسوسے ڈالتا ہے۔ اس حدیث کا موضوع اذان، اقامت اور نماز میں وسوسہ ہے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ اذان اور اقامت کا شیطان پر اثر ہے، مگر نماز کے وقت انسان کو دل سنبھالنے کی بھی ضرورت رہتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان کی آواز سن کر شیطان بھاگتا ہے۔
- اقامت کے وقت بھی شیطان دور جاتا ہے۔
- اذان اور اقامت کے بعد شیطان وسوسے ڈالنے کے لیے لوٹتا ہے۔
