صحیح مسلم حدیث ۸۵۷ - مؤذن کی اذان پر شیطان کا بھاگنا
مؤذن کی اذان اور شیطان کا پیچھے ہٹنا
صحیح مسلم : ۸۵۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۵۷
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ حُصَاصٌ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مؤذن جب اذان دیتا ہے تو شیطان وہاں سے پیٹھ موڑ کر دوڑتا ہوا بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۸۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب مؤذن اذان دیتا ہے تو شیطان پیٹھ موڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ روایت کے الفاظ مختصر ہیں، مگر بات صاف ہے۔ اذان اللہ کی بڑائی اور نماز کی دعوت ہے، اور حدیث میں بتایا گیا کہ شیطان اس آواز سے دور ہو جاتا ہے۔ یہ حدیث اذان کی عظمت اور مؤذن کے کام کی اہمیت کو سمجھاتی ہے۔ اس میں اقامت یا نماز کے وسوسوں کی تفصیل نہیں آئی، اس لیے اسی حد تک بات کرنی چاہیے کہ اذان کے وقت شیطان دور جاتا ہے۔ عام مسلمان کے لیے سبق یہ ہے کہ اذان کو سنجیدگی سے سنے اور اسے نماز کی طرف بلانے والی مبارک پکار سمجھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مؤذن کے اذان دینے پر شیطان پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے۔
- اذان نماز کی طرف بلانے والی پکار ہے۔
- اس روایت میں اذان کے اثر کو مختصر الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
