حدیث ۸۵۸

صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۵۸

حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي أَبِي إِلَى بَنِي حَارِثَةَ ، قَالَ : وَمَعِي غُلَامٌ لَنَا ، أَوْ صَاحِبٌ لَنَا ، فَنَادَاهُ مُنَادٍ مِنْ حَائِطٍ بِاسْمِهِ ، قَالَ : وَأَشْرَفَ الَّذِي مَعِي عَلَى الْحَائِطِ ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي ، فَقَالَ : لَوْ شَعَرْتُ أَنَّكَ تَلْقَ هَذَا ، لَمْ أُرْسِلْكَ ، وَلَكِنْ إِذَا سَمِعْتَ صَوْتًا ، فَنَادِ بِالصَّلَاةِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ ، إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ ، وَلَّى وَلَهُ حُصَاصٌ " .

‏‏‏‏ سہیل کا بیان ہے کہ مجھے میرے والد نے بنو حارثہ کے پاس روانہ کیا۔ جاتے وقت میرے ساتھ ایک لڑکا یا ایک آدمی بھی تھا۔ چنانچہ دوران مسافت ایک باغ کے احاطہ میں سے کسی نے اس کا نام لے کر اسے آواز دی اور میرے ساتھی نے دیکھا کہ باغ میں کوئی نہ تھا۔ اس واقعہ کی میں نے اپنے والد کو اطلاع دی تو انہوں نے کہا: اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم اس واقعہ سے دوچار ہو گے تو میں تم کو ہرگز نہ بھیجتا۔ اب آئندہ کے لیے یاد رکھو کہ اگر تم اس قسم کی آواز سنو (اور آواز دینے والا تم کو دکھائی نہ دے) تو یقین کر لینا کہ وہ شیطان ہے اور اس وقت اسی طرح اذان دینا جس طرح نماز کیلئے اذان دی جاتی ہے۔ کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جب نماز کی اذان ہوتی ہے تو شیطان وہاں سے پادتا ہوا بھاگ جاتا ہے۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں