صحیح مسلم حدیث ۸۶۰ - نماز میں دھیان بٹنے کی وجہ
نماز میں دھیان بٹنا اور وسوسے
صحیح مسلم : ۸۶۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۶۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَيْفَ صَلَّى " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ بالا حدیث کی طرح فرمایا: ”آدمی کو خیال ہی نہیں رہتا کہ اس نے کیوں کر نماز پڑھی۔“ (یعنی اس کے منتشر خیالات میں اس کا دھیان بٹ جاتا ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۸۶۰ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پچھلی حدیث جیسا مضمون نقل ہوا ہے، مگر آخر میں یہ الفاظ آئے کہ آدمی کو خیال نہیں رہتا کہ اس نے کس طرح نماز پڑھی۔ اس سے پہلے والی روایت میں رکعات کے بھولنے کا ذکر تھا، اور یہاں نماز کی کیفیت سے غفلت کا پہلو بیان ہوا۔ اس حدیث کا موضوع نماز میں وسوسہ اور دھیان کا بٹ جانا ہے۔ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان اور اقامت کے وقت شیطان بھاگتا ہے، پھر واپس آ کر وسوسے ڈالتا ہے۔ ان وسوسوں کا اثر یہ ہو سکتا ہے کہ نمازی کا دھیان منتشر ہو جائے۔ اس لیے نماز میں توجہ کی ضرورت سمجھ میں آتی ہے، مگر بات اسی حد تک رکھنی چاہیے جو حدیث میں آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلی حدیث جیسے مضمون کو بیان کرتی ہے۔
- وسوسوں سے نماز میں دھیان بٹ سکتا ہے۔
- نمازی کو کبھی خیال نہیں رہتا کہ اس نے کس کیفیت سے نماز پڑھی۔
