صحیح مسلم حدیث ۹۱۴ - سمع اللہ کے جواب کی روایت

سمع اللہ لمن حمدہ کے جواب کی ہم معنی روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۱۴

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ سُمَيٍّ .

ابوہریرہ روایت:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی حدیث کے ہم معنی دوسری سند سے حدیث مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۹۱۴ کا خلاصہ

یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی معنی میں دوسری سند سے مروی ہے۔ اصل مضمون وہی ہے کہ جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو مقتدی اللہم ربنا لک الحمد کہے۔ پچھلی روایت کے مطابق جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو جائے، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اس طرح یہ روایت نماز میں امام کے بعد کہے جانے والے کلمات کی اہمیت کو مضبوط کرتی ہے۔ حدیث کا مختصر ہونا اس کی بات کو کم نہیں کرتا، بلکہ بتاتا ہے کہ ایک ہی تعلیم مختلف سندوں سے بھی نقل ہوئی۔ نمازی کے لیے اس میں سادہ سبق ہے کہ رکوع کے بعد جلدی یا غفلت نہ کرے، بلکہ حمد کے الفاظ صحیح وقت پر اور توجہ کے ساتھ کہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت پچھلی حدیث کے معنی کی تائید کرتی ہے۔
  • رکوع کے بعد اللہم ربنا لک الحمد کہنا اہم ہے۔
  • نماز میں امام کے بعد کلمات ادا کرنے کی ترتیب کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • حمد کے الفاظ کو غفلت کے بجائے توجہ سے کہنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں