صحیح مسلم حدیث ۹۰۶ - سمع اللہ لمن حمدہ کا مطلب

سمع اللہ لمن حمدہ: اللہ حمد کرنے والے کو سنتا ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۰۶

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، قَضَى عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ .

قتادہ روایت:

اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کہا ہے جو کوئی اللہ کی تعریف کرتا ہے تو اللہ اس کو سنتا ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۹۰۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں قتادہ رحمہ اللہ اسی سند کے ساتھ یہ بات بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلى الله عليه وسلم کی زبان سے فرمایا: سمع اللہ لمن حمدہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ کی تعریف کرتا ہے، اللہ اسے سنتا ہے۔ نماز میں جب امام رکوع سے اٹھ کر یہ کلمات کہتا ہے تو نمازی کو بھی حمد کے الفاظ کی اہمیت سمجھنی چاہیے۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ نماز صرف جسمانی حرکات کا نام نہیں، بلکہ اس میں زبان سے اللہ کی تعریف بھی ہے اور دل میں اللہ کی طرف توجہ بھی۔ سمع اللہ لمن حمدہ کی حدیث نمازی کو یہ یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی حمد ایک بامعنی عمل ہے، اس لیے اللہم ربنا لک الحمد جیسے کلمات کو دھیان سے ادا کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی حمد کرنے والے کے لیے سمع اللہ لمن حمدہ کے الفاظ آئے ہیں۔
  • نماز میں حمد کے کلمات کو توجہ سے کہنا چاہیے۔
  • رکوع کے بعد کی دعا نماز کا اہم حصہ ہے۔
  • نمازی کو اللہ کی تعریف کرتے وقت دل کو حاضر رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں