صحیح مسلم حدیث ۹۰۷ - درود ابراہیمی کا طریقہ

درود ابراہیمی کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم پر درود کیسے پڑھیں؟

صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۰۷

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هُوَ الَّذِي كَانَ أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ، أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ : " أَمَرَنَا اللَّهُ تَعَالَى ، أَنَّ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُولُوا : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ، وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ " .

ابومسعود انصاری روایت:

ہم لوگ سیدنا سعد بن عبادۃ رضی اللہ عنہ کے پس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے۔ چنانچہ سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! اللہ نے ہم کو آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے، اس لئے بتائیے کہ ہم آپ پر کس طرح درود بھیجیں؟یہ سننے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل خاموش رہے اور ہم نے تمنا کی کہ کاش ہم آپ سے نہ پوچھتے۔ پھر تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح درود پڑھا کرو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» اور سلام بھیجنے کا طریقہ تم کو معلوم ہی ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۹۰۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم تشریف لائے۔ سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اللہ نے ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے، تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ نبی صلى الله عليه وسلم کچھ دیر خاموش رہے، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے درود کے الفاظ سکھائے۔ اس درود میں محمد صلى الله عليه وسلم اور آل محمد پر صلوات اور برکت کی دعا ہے، جیسے آل ابراہیم پر صلوات اور برکت کا ذکر ہے۔ حدیث کے آخر میں سلام کے بارے میں فرمایا کہ سلام کا طریقہ تم جانتے ہو۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ درود شریف کے الفاظ نبی صلى الله عليه وسلم سے سیکھے گئے ہیں، اس لیے انہیں ادب اور محبت کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ دینی بات پوچھ کر نبی صلى الله عليه وسلم سے درست طریقہ سیکھتے تھے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے اوپر درود کے مخصوص الفاظ سکھائے۔
  • درود میں نبی صلى الله عليه وسلم اور آل محمد کے لیے صلوات و برکت کی دعا ہے۔
  • سلام اور درود دونوں ادب کے ساتھ ادا کیے جانے والے کلمات ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں