صحیح مسلم حدیث ۹۱۱ - ازواج و ذریت کے لیے درود
درود میں ازواج اور ذریت کا ذکر: ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث
صحیح مسلم : ۹۱۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۱۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ . ح حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا رَوْحٌ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ، أَنَّهُمْ قَالُوا : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ : قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " .
ابو حمید ساعدی روایت:
صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ ارشاد ہوا: ”کہو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ»۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ نبی صلى الله عليه وسلم نے انہیں ایسے الفاظ سکھائے جن میں محمد صلى الله عليه وسلم، آپ کی ازواج اور آپ کی ذریت کے لیے صلوات اور برکت کی دعا ہے۔ اس روایت میں آل ابراہیم کا ذکر بھی آیا ہے اور آخر میں اللہ کی حمد و بزرگی کے الفاظ ہیں: انک حمید مجید۔ یہ حدیث درود شریف کے ایک اور مسنون انداز کو بیان کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ عبادت کے الفاظ نبی صلى الله عليه وسلم سے پوچھ کر سیکھتے تھے۔ درود پڑھتے وقت نمازی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ نبی صلى الله عليه وسلم، آپ کے گھر والوں اور نسل کے لیے اللہ سے رحمت اور برکت کی دعا کر رہا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے درود کے الفاظ خود صحابہ کو سکھائے۔
- اس روایت میں ازواج اور ذریت کے لیے بھی دعا آئی ہے۔
- درود میں صلوات اور برکت دونوں کا ذکر ہے۔
- عبادت کے الفاظ نبی صلى الله عليه وسلم سے سیکھے ہوئے ہونے چاہییں۔
