صحیح مسلم حدیث ۹۱۰ - درود کے الفاظ میں روایت کا فرق
درود ابراہیمی کے الفاظ: وبارک علی محمد کا بیان
صحیح مسلم : ۹۱۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۱۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، وَعَنْ مِسْعَرٍ ، وَعَنْ مَالِكِ ابْنِ مِغْوَلٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَلَمْ يَقُلْ : اللَّهُمَّ .
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں «وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ» کے الفاظ ہیں «اللَّهُمَّ» کا لفظ نہیں ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۹۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں درود والی روایت ایک اور سند سے بیان کی گئی ہے۔ یہاں خاص طور پر یہ وضاحت آئی ہے کہ روایت میں وبارک علی محمد کے الفاظ ہیں، لیکن اللہم کا لفظ وہاں ذکر نہیں ہوا۔ اس سے ہمیں حدیث کے متن میں الفاظ کے فرق کو سمجھنے کا ایک سادہ اصول ملتا ہے کہ راوی جس طرح سنتا یا یاد رکھتا ہے، اسے اسی طرح نقل کرتا ہے۔ اصل موضوع درود ابراہیمی ہی ہے، یعنی نبی صلى الله عليه وسلم پر صلوات اور برکت کی دعا۔ اس روایت کو پڑھتے وقت یہ بات سامنے رہتی ہے کہ درود کے کلمات نبی صلى الله عليه وسلم نے سکھائے، اور صحابہ نے انہیں یاد کیا اور آگے پہنچایا۔ نماز میں درود شریف پڑھتے وقت انسان کو ان الفاظ کی نسبت اور ادب کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- درود کی روایات میں الفاظ کے معمولی فرق کو بیان کیا گیا ہے۔
- راوی حدیث کے الفاظ کو امانت کے ساتھ نقل کرتے تھے۔
- درود میں نبی صلى الله عليه وسلم کے لیے برکت کی دعا شامل ہے۔
- سکھائے گئے دینی کلمات کو احتیاط سے یاد رکھنا چاہیے۔
