صحیح مسلم حدیث ۹۰۹ - درود کی روایت میں ہدیہ کا ذکر نہیں
درود ابراہیمی کی روایت: الفاظ کے فرق کی مختصر وضاحت
صحیح مسلم : ۹۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۰۹
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَمِسْعَرٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ مِسْعَرٍ ، أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث روایت کی گئی ہے لیکن اس میں ہدیہ کا ذکر نہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۹۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ درود سے متعلق پچھلی روایت ایک اور سند سے بھی بیان ہوئی ہے، لیکن اس میں یہ جملہ نہیں آیا کہ میں تمہیں تحفہ دوں۔ اصل بات وہی رہتی ہے کہ صحابہ نے نبی صلى الله عليه وسلم سے درود پڑھنے کا طریقہ پوچھا اور آپ صلى الله عليه وسلم نے درود کے الفاظ سکھائے۔ اس روایت کا فائدہ یہ ہے کہ ہمیں حدیث کے الفاظ نقل کرنے میں راویوں کی امانت کا انداز معلوم ہوتا ہے۔ کبھی ایک روایت میں کوئی تعارفی جملہ آتا ہے اور دوسری سند میں وہ نہیں ہوتا، مگر اصل مضمون ایک ہی رہتا ہے۔ درود شریف کی حدیث میں یہ بات واضح ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم پر درود کے کلمات سیکھنا اور انہیں درست ادا کرنا صحابہ کے لیے بھی اہم تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے الفاظ نقل کرتے وقت فرق کو صاف بیان کیا گیا۔
- اصل مضمون درود کے طریقے سے متعلق ہے۔
- راویوں نے جس لفظ کو روایت میں پایا، اسے امانت سے نقل کیا۔
- درود کے سکھائے ہوئے الفاظ کو درست یاد رکھنا چاہیے۔
