صحیح مسلم حدیث ۹۰۸ - کعب بن عجرہ کی درود والی حدیث
درود شریف کی حدیث: صحابہ کا سوال اور نبی صلى الله عليه وسلم کا جواب
صحیح مسلم : ۹۰۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۰۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ ، فَقَالَ : أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً ، خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : قَدْ عَرَفْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ، قَالَ : قُولُوا : " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " .
ابن ابی لیلیٰ روایت:
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے مل کر کہا: میں تم کو یہ تحفہ دیتا ہوں کہ ایک مرتبہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! آپ پر سلام پڑھنے کی ترکیب تو ہم نے معلوم کر لی ہے مگر یہ بتا دیجئے کہ آپ پر درود کس طرح پڑھیں؟ ارشاد ہوا: کہو ” «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ»۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک علمی تحفہ دیا اور بتایا کہ صحابہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا: ہم آپ پر سلام کا طریقہ جان چکے ہیں، اب بتائیے کہ آپ پر درود کیسے پڑھیں؟ نبی صلى الله عليه وسلم نے جواب میں درود کے الفاظ سکھائے: اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد، پھر آل ابراہیم کا ذکر، اور اس کے بعد برکت کی دعا۔ اس روایت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ درود ابراہیمی خود نبی صلى الله عليه وسلم کے سکھائے ہوئے کلمات ہیں۔ درود شریف پڑھنے والا نبی صلى الله عليه وسلم کے لیے صلوات اور برکت کی دعا کرتا ہے، اور یہ دعا بڑے ادب کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ حدیث کا انداز بھی بتاتا ہے کہ دین کی صحیح بات کو آگے پہنچانا ایک قیمتی تحفہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- درود کے الفاظ نبی صلى الله عليه وسلم سے پوچھ کر سیکھے گئے۔
- صحیح دینی علم کو دوسروں تک پہنچانا اچھا عمل ہے۔
- درود میں نبی صلى الله عليه وسلم اور آل محمد کے لیے صلوات و برکت کی دعا ہے۔
- سلام اور درود کے طریقے کو الگ الگ سمجھنا چاہیے۔
