حدیث ۹۰۵

صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۰۵

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ، وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ : مِنَ الزِّيَادَةِ ، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ : فَإِنَّ اللَّهَ ، قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، إِلَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ وَحْدَهُ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ أَبُو إِسْحَاق ، قَالَ أَبُو بَكْرِ ابْنُ أُخْتِ أَبِي النَّضْرِ : فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالَ مُسْلِمٌ : تُرِيدُ أَحْفَظَ مِنْ سُلَيْمَانَ ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : فَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : هُوَ صَحِيحٌ ، يَعْنِي وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ، فَقَالَ : هُوَ عِنْدِي صَحِيحٌ ، فَقَالَ : لِمَ ، لَمْ تَضَعْهُ هَا هُنَا ؟ قَالَ : لَيْسَ كُلُّ شَيْءٍ عِنْدِي صَحِيحٍ وَضَعْتُهُ هَا هُنَا ، إِنَّمَا وَضَعْتُ هَا هُنَا مَا أَجْمَعُوا عَلَيْهِ ،

‏‏‏‏ سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری روایت بھی اس اسناد کے ساتھ کی ہے۔ علاہ ازیں جریر نے سلیمان کے ذریعہ قتادہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث بیان کی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ ”امام جب قرأت کرے تو مقتدی خاموش سنتے رہیں۔“ ابوکامل کی روایت جو صرف ابوعوانہ کی زبانی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ فرمایا ہو۔ ”جو بندہ تعریف الہٰی کرتا ہے تو اللہ اس کی تعریف سنتا ہے۔“ البتہ امام مسلم رحمہ اللہ کے شاگرد ابواسحٰق رحمہ اللہ نے کہا کہ ابوبکر جو ابونضر کے بھانجے ہیں وہ اس روایت کو محل گفتگو کہتے ہیں۔ امام مسلم رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ سلیمان سے زیادہ حافظ کون ہے (یعنی یہ روایت بالکل صحیح ہے جسے سلیمان نے بیان کیا ہے کہ امام جب قرأت کرے تو مقتدی کو خاموش سنتے رہنا چاہیئے)۔ ابوبکر کی دریافت پر امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث بالکل صحیح ہے کہ امام کی قرأت پر مقتدی خاموش سنتا رہے۔ پھر امام مسلم رحمہ اللہ نے دریافت پر جواب دیا، یہ ضروری نہیں کہ جس روایت کو میں صحیح سمجھوں، اسے اپنی کتاب میں لکھوں بلکہ میں نے اس کتاب میں وہ احادیث لکھی ہیں جو متفقہ طور پر صحیح ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں