صحیح مسلم حدیث ۹۱۳ - اللہم ربنا لک الحمد کی فضیلت
اللہم ربنا لک الحمد: فرشتوں سے موافقت والی حدیث
صحیح مسلم : ۹۱۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۱۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَالَ الإِمَامُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو کیونکہ جس کا کہ کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہو گیا تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللہم ربنا لک الحمد کہو۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہو گیا، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ یہ حدیث رکوع کے بعد والی دعا کی بڑی فضیلت بیان کرتی ہے۔ نماز میں امام کی آواز کے بعد مقتدی کا درست جواب دینا صرف ترتیب کا مسئلہ نہیں، بلکہ عبادت کی ایک اہم دعا ہے۔ اللہم ربنا لک الحمد کے الفاظ اللہ کی تعریف اور شکر کا اظہار ہیں۔ اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں فرشتوں کے عمل سے موافقت ایک بڑی نعمت ہے، اس لیے ان کلمات کو غفلت کے ساتھ نہیں کہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام کے سمع اللہ لمن حمدہ کہنے پر اللہم ربنا لک الحمد کہنا چاہیے۔
- فرشتوں کے قول سے موافقت پر گزشتہ گناہوں کی معافی کا ذکر آیا ہے۔
- رکوع کے بعد کی دعا کو توجہ سے پڑھنا چاہیے۔
- جماعت کی نماز میں امام کے بعد درست جواب دینا اہم ہے۔
