صحیح مسلم حدیث ۹۳۹ - عائشہؓ کی وجہ بیان

ابوبکرؓ کی امامت پر عائشہؓ کی فکرمندی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۳۹

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ ، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي ، أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ ، رَجُلًا قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا ، وَإِلَّا أَنِّي كُنْتُ أَرَى ، أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ مَقَامَهُ أَحَدٌ ، إِلَّا تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب والد بزرگوار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تو میں نے اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو باز رکھنے کی کوشش کی کہ مجھے خیال ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم مقام ہو گا، لوگ اس کو منحوس کہیں گے اور اس سے محبت نہ رکھیں گے۔ اسی خیال کے مدنظر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو امامت سے کرنے سے معاف رکھیں تو مناسب ہو گا۔

صحیح مسلم حدیث ۹۳۹ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے دل کی وجہ بیان کرتی ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں بار بار عرض کیا۔ وہ فرماتی ہیں کہ مجھے یہ خیال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص آپ کے مقام پر کھڑا ہوگا، لوگ اس سے محبت نہ کریں گے یا اسے منحوس سمجھیں گے۔ اسی خیال سے انہوں نے چاہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس ذمہ داری سے ہٹا دیں۔ اس روایت میں حکم کا اصل بیان نہیں، بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فکرمندی بیان ہوئی ہے۔ اس لیے اسے اسی حد تک سمجھنا چاہیے: ایک بیٹی اور ام المؤمنین کی دلی وجہ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کا پس منظر۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عائشہؓ نے اپنی بار بار عرض کرنے کی وجہ خود بیان کی۔
  • ان کی فکر یہ تھی کہ لوگ بعد میں ابوبکرؓ کے بارے میں بدگمانی نہ کریں۔
  • روایت میں ابوبکرؓ کے مقام پر کھڑے ہونے کا ذکر ہے۔
  • حدیث کو اسی بیان کردہ وجہ تک محدود رکھ کر سمجھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں