صحیح مسلم حدیث ۹۴۰ - ابوبکرؓ ہی نماز پڑھائیں

ابوبکرؓ ہی نماز پڑھائیں: نبی صلى الله عليه وسلم کا پختہ حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۴۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد واللفظ لابن رافع ، قَالَ عَبد : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي ، قَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ ، رَجُلٌ رَقِيقٌ ، إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ ، لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا بِي إِلَّا كَرَاهِيَةُ ، أَنْ يَتَشَاءَمَ النَّاسُ بِأَوَّلِ مَنْ يَقُومُ فِي مَقَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَرَاجَعْتُهُ مَرَّتَيْنِ ، أَوْ ثَلَاثًا ، فَقَالَ : لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ " .

عائشہ روایت:

بحالت مرض الموت جب رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔“ جس پہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ابوبکر رضی اللہ عنہ بہت نرم دل ہیں وہ جب قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں بہہ نکلتی ہیں۔ ان کے ماسوا کسی اور کو امامت کا حکم دیں تو مناسب ہو گا۔ اور اللہ کی قسم! میں نے یہ اس لئے کہا کہ لوگ میرے والد بزرگوار کو منحوس نہ سمجھیں کہ یہ وہ شخص ہیں جو پہلے پہل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور قائم مقام ہوئے ہیں۔میں نے دو تین مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو والد بزرگوار کی امامت سے باز رکھنے کی کوشش کی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ دیا کہ ابوبکر ہی امامت کریں گے اور تم خواتین یوسف علیہ السلام کی خواتین کی مانند ہو۔

صحیح مسلم حدیث ۹۴۰ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کی حالت میں ان کے گھر آئے تو فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل ہیں، قرآن پڑھتے ہیں تو آنسو آ جاتے ہیں، اس لیے کسی اور کو حکم دیا جائے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ ان کی اصل وجہ یہ تھی کہ لوگ ان کے والد کو اس شخص کے طور پر بدشگون نہ سمجھیں جو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام پر کھڑا ہوا۔ انہوں نے دو تین مرتبہ عرض کیا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ برقرار رکھا کہ ابوبکر ہی نماز پڑھائیں گے۔ آخر میں آپ نے خواتینِ یوسف کا ذکر فرمایا۔ اس روایت میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت کا حکم صاف ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے ابوبکرؓ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔
  • عائشہؓ نے ابوبکرؓ کی نرم دلی اور رونے کا ذکر کیا۔
  • دو تین بار عرض کے باوجود حکم تبدیل نہیں ہوا۔
  • روایت میں ابوبکرؓ کی امامت پر نبی صلى الله عليه وسلم کا فیصلہ واضح ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں