صحیح مسلم حدیث ۹۵۳ - امام کو نماز پڑھانے دو
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو امامت جاری رکھنے کا حکم
صحیح مسلم : ۹۵۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۵۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَالْحُلْوَانِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادٍ ، قَالَ الْمُغِيرَةُ : فَأَرَدْتُ تَأْخِيرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعْهُ .
حمزہ بن مغیرہ روایت:
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ میں سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو پیچھے ہٹانا چاہا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انہیں نماز پڑھانے دو۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۵۳ کا خلاصہ
یہ روایت تبوک والے واقعے کا مختصر طریق ہے۔ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو پیچھے ہٹانا چاہا، کیونکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم تشریف آ چکے تھے۔ مگر نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: انہیں رہنے دو۔ اس سے متن کی حد تک یہ بات صاف ہوتی ہے کہ جاری نماز میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو امامت جاری رکھنے دی گئی۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کے پیچھے نماز ادا کی، جیسا کہ پچھلی روایت میں تفصیل سے آتا ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع امامت کی ترتیب اور نماز کے دوران امام کو بلا ضرورت ہٹانے سے بچنا ہے۔ یہاں کوئی لمبی تفصیل نہیں، اس لیے بات اسی جملے پر مرکوز رہتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو امامت جاری رکھنے دی۔
- سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے امام کو پیچھے کرنا چاہا، مگر نبی صلى الله عليه وسلم نے روک دیا۔
- جاری نماز کی ترتیب کو برقرار رکھا گیا۔
- مختصر روایت میں اصل حکم یہی ہے کہ انہیں نماز پڑھانے دو۔
