صحیح مسلم حدیث ۹۶۴ - امام سے پہلے سجدہ نہ اٹھاؤ
نماز میں امام سے پہلے سجدہ سے اٹھنے کی ممانعت
صحیح مسلم : ۹۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۶۴
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " مَا يَأْمَنُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ فِي صَلَاتِهِ قَبْلَ الإِمَامِ ، أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ صُورَتَهُ فِي صُورَةِ حِمَارٍ ؟ " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی امام سے پہلے سجدہ سے اپنا سر اٹھاتا ہے اسے ڈرنا چاہیئے کہ پروردگار عالم اس کی صورت پلٹ کر گدھے کی مانند کر دے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۶۴ کا خلاصہ
اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنی نماز میں امام سے پہلے سر اٹھاتا ہے، اسے ڈرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کی صورت گدھے کی صورت میں بدل دے۔ یہ الفاظ بہت سخت تنبیہ پر مشتمل ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ نمازی جماعت کی نماز کو معمولی نہ سمجھے۔ امام سے پہلے سجدہ سے اٹھنا صرف ایک جلدی نہیں، بلکہ امام کی اقتدا کے خلاف عمل ہے۔ اس حدیث میں نماز کے اندر سکون، ادب اور امام کے بعد حرکت کرنے کا سبق ملتا ہے۔ جب آدمی جماعت میں کھڑا ہو تو اسے اپنی نماز کو امام کے ساتھ جوڑ کر رکھنا چاہیے۔ امام رکوع، سجدہ یا اٹھنے میں آگے ہو، مقتدی اس کے بعد حرکت کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام سے پہلے سجدہ سے سر اٹھانا سخت تنبیہ والا عمل ہے۔
- نماز میں امام کے بعد حرکت کرنا چاہیے۔
- جماعت میں نظم اور ترتیب کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
- نماز کو جلد بازی کے بجائے دھیان سے ادا کیا جائے۔
