صحیح مسلم حدیث ۹۶۵ - امام سے پہلے اٹھنے پر تنبیہ

امام سے پہلے سر اٹھانے والے کے لیے سخت وعید

صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۶۵

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ جَمِيعًا ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ : " أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ وَجْهَهُ وَجْهَ حِمَارٍ " .

ابوہریرہ روایت:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں مذکورہ حدیث کی طرح مگر اس سند سے یہ لفظ بھی آئے ہیں کہ ”اللہ اس کے چہرے کو گدھے کا چہرہ نہ بنا دے۔“

صحیح مسلم حدیث ۹۶۵ کا خلاصہ

یہ روایت بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ نماز میں امام سے پہلے سجدہ سے سر اٹھانا بہت خطرناک عمل ہے۔ اس سند کے الفاظ میں یہ بات آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو گدھے کا چہرہ نہ بنا دے۔ حدیث کا مقصد نمازی کو ڈرانا اور سمجھانا ہے کہ جماعت کی نماز میں امام کے ساتھ بے ترتیبی نہ کرے۔ امام کی اقتدا صرف ظاہری ساتھ کھڑے ہونے کا نام نہیں، بلکہ رکوع، سجدہ، اٹھنے اور بیٹھنے میں بھی امام کے بعد چلنے کا نام ہے۔ اس روایت سے عام نمازی کو یہ سبق ملتا ہے کہ نماز میں جلدی کرنے کے بجائے دھیان رکھا جائے۔ خاص طور پر سجدہ سے سر اٹھاتے وقت امام کے بعد ہی حرکت کی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • امام سے پہلے سجدہ سے اٹھنے پر سخت وعید آئی ہے۔
  • مقتدی کو امام کے بعد حرکت کرنی چاہیے۔
  • نماز میں جلدی اور بے ترتیبی سے بچنا چاہیے۔
  • جماعت کی نماز میں ادب اور پیروی دونوں ضروری ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں