حدیث ۹۶۱
صحیح مسلم : ۹۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۶۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَاتَ يَوْمٍ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ، أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ ، وَلَا بِالسُّجُودِ ، وَلَا بِالْقِيَامِ ، وَلَا بِالِانْصِرَافِ ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ أَمَامِي ، وَمِنْ خَلْفِي " ، ثُمَّ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " ، قَالُوا : وَمَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ " ،
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھانے کے فوراً ہی بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”لوگو! میں تمہارا امام ہوں۔ اس لئے مجھ سے پہلے رکوع، سجدہ، قومہ اور سلام نہ پھیرو۔ میں آگے اور پیچھے سے تم کو دیکھتا ہوں۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو چیزیں میں دیکھتا ہوں اگر تم انہیں دیکھ لو تو ہنسو کم اور روؤ زیادہ“، لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ ارشاد ہوا ”میں نے جنت اور دوزخ دیکھی ہے۔“
