سنن نسائی حدیث ۱۰۰۰ - عشاء میں والشمس وضحاها

عشاء میں والشمس وضحاها پڑھنے کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۰۰

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبِي ، قال : أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَأَشْبَاهِهَا مِنَ السُّوَرِ " .

بریدہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اسی جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔

سنن نسائی حدیث ۱۰۰۰ کا خلاصہ

بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اسی جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔ یہ روایت عشاء کی قراءت کے بارے میں ایک آسان اور واضح نمونہ دیتی ہے۔ عشاء کی نماز میں ایسی سورتیں پڑھنا جو نہ بہت لمبی ہوں اور نہ بہت مختصر، جماعت کے لیے مناسب رہتا ہے۔ اسی باب کی دوسری روایات میں معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی ایسی سورتوں کی طرف رہنمائی دی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کی قراءت میں اعتدال ہونا چاہیے۔ عشاء کا وقت لوگوں کے آرام کا وقت بھی ہوتا ہے، اس لیے نماز کو مکمل، پرسکون اور آسان رکھنا اچھا طریقہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عشاء میں «والشمس وضحاها» جیسی سورتیں پڑھنا ثابت ہے۔
  • امام کو عشاء کی نماز میں مناسب قراءت کرنی چاہیے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل قراءت کے انتخاب میں رہنمائی دیتا ہے۔
  • نماز میں آسانی اور وقار دونوں کا خیال رکھا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں