سنن نسائی حدیث ۱۰۵۸ - رفع یدین اور ربنا لک الحمد
رفع یدین، سمع اللہ لمن حمدہ اور ربنا لک الحمد
سنن نسائی : ۱۰۵۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۵۸
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَكَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو «ربنا لك الحمد» کہتے، اور دونوں سجدوں کے درمیان اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۵۸ کا خلاصہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے۔ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو «ربنا لك الحمد» کہتے۔ اس حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ یہ روایت نماز کے عمل کو ترتیب کے ساتھ بتاتی ہے: نماز کا آغاز، رکوع سے اٹھنا، ذکر کے الفاظ، اور سجدوں کے درمیان رفع یدین نہ کرنا۔ اس لیے یہ حدیث رفع یدین کی جگہیں اور ربنا لک الحمد کی دعا سمجھنے والوں کے لیے بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز شروع کرتے وقت ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھانے کا ذکر ہے۔
- رکوع سے اٹھتے وقت بھی رفع یدین کا بیان ہے۔
- «سمع اللہ لمن حمدہ» کے بعد «ربنا لک الحمد» کہنا آیا ہے۔
- حدیث میں سجدوں کے درمیان ہاتھ نہ اٹھانے کی بات بھی بیان ہوئی ہے۔
