سنن نسائی حدیث ۱۰۵۹ - ایک بار رفع یدین کا بیان
عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت: صرف ایک بار رفع یدین
سنن نسائی : ۱۰۵۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۵۹
قال الْبُخَارِي ، أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ الْمَرْوَزِيُّ قال : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ : " أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟ چنانچہ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، تو انہوں نے صرف ایک بار رفع یدین کیا۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۵۹ کا خلاصہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟ پھر انہوں نے نماز پڑھائی، اور روایت کے مطابق انہوں نے صرف ایک بار رفع یدین کیا۔ اس حدیث کا موضوع بھی رفع یدین ہے، مگر اس میں ایک الگ مشاہدہ بیان ہوا ہے۔ یہاں روایت کا مقصد یہ بتانا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دکھانے کے لیے نماز پڑھی، اور اس میں صرف ایک بار ہاتھ اٹھائے۔ اس حدیث کو بیان کرتے ہوئے احتیاط ضروری ہے کہ اس کے الفاظ سے آگے بڑھ کر بحث نہ بنائی جائے۔ نماز کے مسائل میں مختلف روایات ملتی ہیں، اور علمائے کرام کے مطابق انہیں اصول کے ساتھ سمجھا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عبداللہ بن مسعودؓ نے نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز دکھانے کا ارادہ کیا۔
- اس روایت میں صرف ایک بار رفع یدین کا بیان ہے۔
- حدیث کے الفاظ کو اسی حد تک بیان کرنا چاہیے۔
- مختلف روایات کو سمجھنے میں اہل علم کی رہنمائی مفید ہوتی ہے۔
