سنن نسائی حدیث ۱۰۶۰ - کندھوں تک رفع یدین
نماز میں کندھوں تک رفع یدین کی حدیث
سنن نسائی : ۱۰۶۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۰۶۰
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا وَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تب بھی اسی طرح اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہتے، اور سجدے میں رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۰۶۰ کا خلاصہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے۔ جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے، تب بھی اسی طرح ہاتھ اٹھاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہتے، اور سجدے میں ایسا نہیں کرتے تھے۔ یہ حدیث رفع یدین کی جگہیں واضح کرتی ہے: آغاز نماز، رکوع کے لیے تکبیر، اور رکوع سے اٹھنا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتاتی ہے کہ سجدے میں رفع یدین نہیں کیا گیا۔ اس روایت میں عمل اور ذکر دونوں جمع ہیں، اس لیے نماز کے طریقے کو سیکھنے والوں کے لیے یہ حدیث بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے آغاز میں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھانے کا ذکر ہے۔
- رکوع کے لیے تکبیر کہتے وقت رفع یدین کا بیان ہے۔
- رکوع سے اٹھتے وقت بھی ہاتھ اٹھانے کا ذکر آیا ہے۔
- اس روایت میں سجدے میں رفع یدین نہ کرنے کی بات موجود ہے۔
